افغانستان میں شدید بارشوں، سیلاب اور ژالہ باری نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کم از کم 29 افراد لقمہ اجل بن گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے دو صوبوں میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کے باعث متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مغربی صوبہ فراہ میں ژالہ باری کے نتیجے میں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو خاندان شامل تھے جو تفریح کے لیے گئے ہوئے تھے۔ دوسری جانب، جنوبی قندھار میں شدید بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں 8 افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
حکام کے مطابق، قندھار میں چار خواتین کپڑے دھونے میں مصروف تھیں کہ اچانک سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، جن میں سے صرف ایک خاتون زندہ بچ سکی، جبکہ ایک بچہ بھی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ اسی طرح، ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور تین بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغانستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے 2023 میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان کو خشک سالی، سیلاب، زمین کی تباہی اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں آنے والے سیلاب نے سیکڑوں جانیں لے لی تھیں اور وسیع پیمانے پر زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا تھا۔

