کولکتہ / مانیٹرنگ ڈیسک: مغربی بنگال میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو گردہ فروخت کرنے پر مجبور کیا اور بعد میں محبوب کے ساتھ رقم لے کر فرار ہوگئی۔
یہ واقعہ ہاوڑہ ضلع کے سانکریل علاقے میں پیش آیا، جہاں خاتون نے شوہر کو بیٹی کی تعلیم اور شادی کے اخراجات کا جواز دے کر گردہ بیچنے پر آمادہ کیا۔ مسلسل دباؤ کے بعد شوہر نے آخرکار رضامندی ظاہر کی، اور تقریباً ایک سال کی تلاش کے بعد تین ماہ قبل خریدار ملا۔ اسے امید تھی کہ اس سے مالی حالات بہتر ہو جائیں گے اور بیٹی کی شادی کے لیے انتظامات آسان ہو سکیں گے۔
تاہم، شوہر اس حقیقت سے لاعلم تھا کہ اس کی بیوی کا منصوبہ کچھ اور تھا۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک پینٹر سے ملی اور دونوں میں تعلقات قائم ہوگئے۔ جب شوہر غربت سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، خاتون نے گردے کی فروخت سے حاصل شدہ 10 لاکھ روپے لے کر محبوب کے ساتھ بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔
بعد ازاں، شوہر نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور جب اہل خانہ باراک پور میں خاتون کی رہائش گاہ پہنچے تو اس نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ شوہر اور بچوں کی درخواستوں کے باوجود، خاتون نے باہر آنے سے انکار کرتے ہوئے طلاق کی دھمکی دی۔
قابل ذکر ہے کہ بھارت میں 1994 سے انسانی اعضا کی فروخت غیر قانونی ہے، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عطیہ دہندگان کی کمی کے باعث اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت اب بھی جاری ہے۔

