لندن / مانیٹرنگ ڈیسک: ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مردوں کے نطفے (منی) کی صحت نہ صرف ان کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان کی مجموعی صحت اور عمر کی پیش گوئی بھی کر سکتی ہے۔ 50 سالہ طویل تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ جن مردوں کے نطفے کی کوالٹی کمزور ہوتی ہے، وہ اوسطاً تین سال پہلے وفات پا سکتے ہیں، بہ نسبت ان افراد کے جن کے نطفے صحت مند ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، صحت مند منی کی پہچان اس کے رنگ، مقدار اور ساخت سے کی جا سکتی ہے۔ عام طور پر صحت مند منی کا رنگ سفید مائل سرمئی یا دودھیا ہوتا ہے، جبکہ اس کی ساخت گاڑھی اور جیلی جیسی ہونی چاہیے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم از کم 1.5 ملی لیٹر منی کا اخراج (تقریباً ایک تہائی چائے کا چمچ) نارمل سمجھا جاتا ہے۔ اگر منی ضرورت سے زیادہ پتلی، پانی جیسی یا غیر معمولی حد تک گاڑھی ہو، تو یہ سپرم کی تعداد میں کمی یا معیار کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈنمارک میں ہونے والی ایک تحقیق میں 78,000 مردوں کے نطفے کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق، جن مردوں کے نطفے میں 12 کروڑ متحرک سپرم موجود تھے، ان کی متوقع عمر 80.3 سال رہی، جبکہ وہ مرد جن کے نطفے میں صرف 50 لاکھ یا اس سے کم سپرم تھے، ان کی عمر اوسطاً 77.6 سال پائی گئی۔ تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صحت مند نطفے نہ صرف تولیدی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ مجموعی صحت اور طویل عمر کے امکانات کو بھی بڑھاتے ہیں۔

