شکایت لے کر آئی والدہ پر سکول کے ہیڈ اور مرد ٹیچر کا تشدد

0

  کراچی / مانیٹرنگ ڈیسک: ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سندھ نے بن قاسم کے ایک نجی اسکول میں طالبہ کی والدہ پر مبینہ تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔


تفصیلات کے مطابق 11 فروری کو کراچی کے علاقے بن قاسم کے سندھی گوٹھ میں قائم ایک نجی اسکول میں یہ واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے مسائل کے حوالے سے شکایت کرنے اسکول پہنچی تھیں، جہاں اسکول کے ناظم اور ایک مرد ٹیچر نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا۔ خاتون کے مطابق انہیں تھپڑ مارے گئے، ان کے بچوں کے بیگ ان کے چہرے پر مارے گئے، اور انہیں اسکول سے نکال دیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔




ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی ہے، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر قربان علی بھٹو بطور چیئرمین، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر نصراللہ حمزہ اور غلام شبیر سولنگی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اسکول کا دورہ کرے گی، متاثرہ خاتون اور اسکول انتظامیہ کے بیانات ریکارڈ کرے گی، اور اسکول کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرے گی۔ تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کے بعد کمیٹی واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں میں نظم و ضبط اور والدین کے ساتھ بہتر تعلقات کو یقینی بنانا ہے۔

:ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سندھ نے بن قاسم کے ایک نجی اسکول میں طالبہ کی والدہ پر مبینہ تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق 11 فروری کو کراچی کے علاقے بن قاسم کے سندھی گوٹھ میں قائم ایک نجی اسکول میں یہ واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے مسائل کے حوالے سے شکایت کرنے اسکول پہنچی تھیں، جہاں اسکول کے ناظم اور ایک مرد ٹیچر نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا۔ خاتون کے مطابق انہیں تھپڑ مارے گئے، ان کے بچوں کے بیگ ان کے چہرے پر مارے گئے، اور انہیں اسکول سے نکال دیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی ہے، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر قربان علی بھٹو بطور چیئرمین، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر نصراللہ حمزہ اور غلام شبیر سولنگی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اسکول کا دورہ کرے گی، متاثرہ خاتون اور اسکول انتظامیہ کے بیانات ریکارڈ کرے گی، اور اسکول کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرے گی۔ تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کے بعد کمیٹی واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد اسکولوں میں نظم و ضبط اور والدین کے ساتھ بہتر تعلقات کو یقینی بنانا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !