اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف سے نکالے گئے رکن قومی اسمبلی، شیر افضل مروت، کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس انہیں نکالنے کی کوئی معقول وجہ نہیں، اور اس فیصلے کے پیچھے سلمان اکرم راجہ اور ان کے ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: شیر افضل مروت نواز شریف کی بولی بولنے لگ گئے
یو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے الزام عائد کیا کہ وہ پارٹی ارکان جنہوں نے اپنا ووٹ اور ضمیر بیچا، اب بھی پارٹی کا حصہ ہیں، جبکہ اصل فیصلے غیر منتخب افراد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ مخصوص لوگ عمران خان کے قریب ہو کر ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور سازشوں کے ذریعے لوگوں کے سیاسی مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے موروثی سیاست کے خلاف آواز بلند کی تھی، جو شاید بعض افراد کو ناگوار گزری۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ جھوٹ زیادہ دیر نہیں ٹِک سکتا اور وہ جلد ہی پارٹی میں واپس آئیں گے۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو تحریک انصاف کا ڈی فیکٹو سیکرٹری جنرل قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ زبردستی یہ عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سلمان اکرم راجہ بااثر افراد کی سفارش پر اس منصب پر فائز ہوئے اور انہی افراد نے ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، جس کا وہ جلد جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل، تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کی رکنیت ختم کر دی تھی۔

