اسلام آباد/ مانیٹرنگ ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف سے نکالے گئے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن، شیر افضل مروت، نے پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سلمان اکرم راجا پر تنقید کے بعد اب سابق سیکرٹری اطلاعات، رؤف حسن، کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: کوئٹہ سے پنجاب آنے والے مسافروں کو بس سے اتار کر گولیاں مار دی گئیں
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر انہیں پارٹی میں واپس لایا جا رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف جاری کیے گئے پہلے دو نوٹیفکیشن غلط تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آج تک ان کے پارٹی سے نکالے جانے کی وجوہات سامنے آ سکیں؟ اور نہ ہی تازہ ترین نوٹیفکیشن میں اس کا کوئی ذکر کیا گیا ہے۔
رؤف حسن پر تنقید کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں اور ماضی میں بھی ان کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رؤف حسن کو پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا تھا کیونکہ وہ سیاسی کمیٹی کے اجلاسوں کی کارروائیاں ریکارڈ کر کے میڈیا پرسنز اور یوٹیوبرز کو فروخت کرتے تھے۔ مزید یہ کہ ان پر اسٹیبلشمنٹ کو اندرونی معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رؤف حسن کو پارٹی میں خاص مقصد کے تحت لانچ کیا گیا تھا۔ ایک وقت میں، جب انہیں خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، تو ان
سے ہمدردی ہوئی تھی
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ رؤف حسن پارٹی میں صرف ایک ملازم کی حیثیت رکھتے تھے، جو آخری سال تک 8 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے تھے، اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں تقریباً 5 کروڑ روپے ہڑپ کر گئے۔
اپنی پارٹی سے بے دخلی پر گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ جب انہیں نکالا گیا تو انہوں نے ان ہی افراد کے خلاف بولنا شروع کیا، جو اس فیصلے کے پیچھے تھے۔ ان کے مطابق، رؤف حسن جیسے افراد مخصوص گروپ کے آلہ کار رہے ہیں، جنہوں نے انہیں پارٹی سے باہر نکالنے میں کردار ادا کیا۔
پارٹی ڈسپلن پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ پہلے خاموش تھے کیونکہ وہ پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کر رہے تھے، مگر اب پارٹی میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق، پارٹی ڈسپلن کے نام پر انہیں بار بار بے توقیر اور بے عزت کیا گیا، لیکن اب وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ اگر کوئی ان کے خلاف بیان دے گا تو وہ بھی جواب دینے سے گریز نہیں کریں گے۔

