لندن / مانیٹرنگ ڈیسک: برطانوی فوج میں خواتین اہلکاروں کو مرد ساتھیوں کی جانب سے ہراسانی اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ ایک حالیہ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا۔ رائل آرٹلری کی 19 سالہ جیزلی بیک 15 دسمبر 2021 کو ایک پارٹی کے بعد اپنی بیرک میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔ ان کی ایک سابقہ ساتھی، ٹیمزن ہورٹ، جو فوج چھوڑ چکی ہیں، نے عدالت میں گواہی دی کہ خواتین اہلکاروں کو اکثر شرمناک اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر اگر وہ کسی مرد ساتھی کی پیش قدمی کو مسترد کر دیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: قیدیوں نے جیل توڑ کر 150 خواتین قیدیوں کو ریپ کرکے زندہ جلا دیا
ہورٹ کے مطابق، جیزلی بیک کو ان کے مینیجر نے ہراساں کیا تھا، اور ایک موقع پر ایک سارجنٹ نے انہیں زبردستی بوسہ دینے کی کوشش کی تھی۔ ہورٹ نے خود بھی اس قسم کے نامناسب رویے کا سامنا کیا، کیونکہ وہ اپنی یونٹ میں واحد خاتون ہونے کے باعث مرد ساتھیوں کی مسلسل توجہ کا مرکز بنی رہتی تھیں، خاص طور پر جب وہ نشے میں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ غیر مہذب جملوں سے بچنے کے لیے اپنی بیرک سے باہر نکلنے سے بھی گریز کرتی تھیں۔ فوجی ماحول میں خواتین کو بارہا تضحیک آمیز ناموں سے پکارا جاتا اور ان کی بے عزتی کی جاتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ تربیت کے دوران انہیں موٹا کہہ کر پکارا جاتا، اور اس قسم کے توہین آمیز جملے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتے۔ خوفزدہ ہو کر انہوں نے اپنے کمرے کو لاک رکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اکثر رات گئے مرد اہلکار ان کے دروازے پر آتے تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ جب وہ 17 سال کی تھیں، تو ایک رات واپس آتے ہوئے انہوں نے ایک سارجنٹ کو اپنے کمرے کے باہر ہاتھ میں کنڈوم لیے کھڑا پایا، جو ان کے لیے انتہائی خوفناک لمحہ تھا۔
ہورٹ کے مطابق، جیزلی بیک نے ان واقعات کے بارے میں کبھی کھل کر بات نہیں کی، لیکن وہ ان کے بارے میں سنتی رہتی تھیں۔ جیزلی اپنی خوبصورتی کے باعث مرد ساتھیوں کی ناپسندیدہ توجہ کا نشانہ بنتی رہیں، اور ان کے متعلق نازیبا باتیں کی جاتی تھیں۔ ان کے سابق بوائے فرینڈ، جارج ہگنز، نے عدالت کو بتایا کہ جیزلی کو ایک فوجی اہلکار کی جانب سے 4600 پیغامات موصول ہوئے، اور وہ شخص انہیں 15 صفحات پر مشتمل تحریری نوٹس بھی دکھاتا تھا، جس میں اس نے اپنی سوچیں قلمبند کی تھیں۔
ایک واٹس ایپ پیغام میں جیزلی نے اس اہلکار کو خبردار کیا کہ وہ حد سے تجاوز کر چکا ہے، اور وہ اس کی موجودگی سے بے حد پریشان تھیں۔ ایک اور فوجی اہلکار نے عدالت میں بتایا کہ جیزلی نے دوبارہ شکایت درج نہیں کروائی تاکہ انہیں الزام لگانے والی کے طور پر نہ دیکھا جائے، کیونکہ اس سے قبل وہ پہلے ہی ایک شکایت کر چکی تھیں۔ اکتوبر 2023 میں ہونے والی فوجی تحقیقات کے مطابق، یہ بھی ممکنہ طور پر ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ بعد میں مزید واقعات پر خاموش رہیں۔
اس رپورٹ میں جیزلی کی موت سے متعلق تین دیگر عوامل کا ذکر بھی کیا گیا، جن میں ایک شادی شدہ ساتھی کے ساتھ تعلقات کا دباؤ، شراب نوشی کی عادت، اور دیگر نفسیاتی دباؤ شامل تھے۔

