نئی دہلی / مانیٹرنگ ڈیسک: ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک بھارت میں پیش آئے جرم کے کئی واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لمبے عرصے تک پریشان کیے رکھا۔ملک کی شمالی ریاستوں بہار، جھاڑ کھنڈ، اتر پردیش ، مادھیہ پردیش اور بنگال میں سرگرم کئی جرائم پیشہ عناصر اس قدر شاطر اور سفاک ہیں کہ کئی شہروں میں بسنے والے پورے پورے گھرانے ان کی بھینٹ چڑھ کر ریپ، لوٹ مار یہاں تک کے قتل جیسی سنگین وارداتوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ان جرائم کے معموں کو حل کر پانا پولیس کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔
پچھلی ایک دہائی سے کئی منظم گینگ ایسی کئی سنگین وارداتوں کو کامیابی سے انجام دیتے رہے جن میں حیران کن طور پر نہ صرف گھروں میں سے زیورات ، کیش رقوم اور دوسری قیمتی چیزیں لوٹ لی جاتی بلکہ گھر میں موجود خواتین گینگ ریپ کا شکار ہو جاتیں اور گھر میں موجود تمام افراد کو انتہائی بے رحمی سے گلے کاٹ کر قتل جر دیا جاتا اور یہ سب کچھ اتنی دیدہ دلیری اور سرعت کے ساتھ ہوتا رہا کہ کسی کو کچھ پتہ نہ۔چل پاتا ۔۔
یہاں تک کہ ایک کے بعد ایک کرکے بیسیوں گھناؤنی وارداتوں کو بڑی ہی کامیابی سے انجام دیا گیا۔پولیس منہ تکتی رہ گئی اور لوگ اپنے ہی گھروں میں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگ گئے ۔۔جس کے بعد اعلیٰ حکام نے ان ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات اور ملوث گروہوں کا پتہ لگانے کی ذمہ داریاں لوکل پولیس سے لے کر سی بی آئی یعنی کرائم برانچ کو سونپ دیں ۔
مختلف کیسز کی انتہائی باریک بینی سے جانچ کے بعد کرائمبرانچ کے ہاتھ معاملے کا ایک ایسا سرا لگ گیا جس نے سب کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔۔چار یا پانچ الگ الگ کیسز کی انویسٹیگیشن کے دوران پتہ چلا کہ ان تمام کیسز میں ایک مشترکہ عنصر ایک سات آٹھ سال کی بچی تھی ۔جسے عینی شاہدین ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر کی مدد سے ان تمام گھرانوں سے جڑا دیکھا گیا جو ان وارداتوں کی بھینٹ چڑھ گئے تھے ۔
کافی ڈھونڈ ڈھانڈ کے بعد پولیس نے اس لڑکی کے بارے میں معلوم کر لیا کہ وہ کہاں تھی اور اب کیا کرنے والی تھی۔
جلد ہی اس کی بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے ایک گھر میں موجودگی کا پتہ لگا لیا گیا ۔ تاہم اسے پکڑنے کی بجائے مسلسل اس گھر اور اس بچی کی پل پل کی خبر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔یہ۔بچی ایک دولت مند بے اولاد جوڑے کہ ہاں رہ رہی تھی
۔خبریوں کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ بچی نے خود کو بنا ماں باپ کے اور مکمل۔لاوارث کہہ کر متعارف کروایا جس کے بعد جوڑے نے ترس کھا کر اسے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے بچی کو خفیہ کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
تحقیقات کے دوران بچی نے بتایا کہ پندرہ سولہ ارکان پر مشتمل بہار کا ایک جرائم پیشہ گروپ اسے زبردست پلاننگ کے ساتھ ایسے گھروں میں بھیج دیتا تھا اور پھر اس کے ذریعےان گھروں میں موجود تمام افراد اور ان کے روز مرہ معمول کی مکمل تفصیلات حاصل کر لیتا تھا۔
ایک موزوں صورتحال کا پتہ لگتے ہی مردو خاتون پر مشتمل یہ گروہ پوری تیاری کے ساتھ ان گھروں میں داخل ہو جاتا ۔ خواتین کا ریپ کیا جاتا۔ گھروں سے پیسے، زیور لوٹ لیے جاتے اور اہل خانہ کو وہیں قتل کرکے گینگ بآسانی وہاں سے چلا جاتا۔۔کرائم۔برانچ کے اہلکاروں نے بچی کو اس کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی۔کروائی اور تعاون کرنے پر آمادہ کیا۔
ںچی کے بلانے پر گینگ نے جب اپنے۔مذموم مقاصدِ کو پایہ تکمیل پہنچانے کے لیے گھر پر دھاوا بولا اور اندر چھپے کرائم برانچ کے اہلکاروں نے انھیں دھر لیا اور ان کی نشاندہی پر اور بھی کئی اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ۔

.jpg)