واشنگٹن/ مانیٹرنگ ڈیسک: آمریکہ میں ایک خاتون نے تین گھنٹے کے وحشیانہ تشدد سے اپنے بیٹے کو موت کی نیند سلا دیا۔ غیر ملکی خبررساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے ایریا سئیٹل میں ڈینایا ینگ نامی 29 سالہ خاتون اپنے 14 سالہ سوتیلے بیٹے کی حرکات و سکنات سے تنگ تھی۔۔ گزشتہ روز ڈینایا اپنے بیٹے کی کسی حرکت پر اس قدر طیش میں آگئی کہ اس نے ایک کیبل لی اور اس سےلڑکے کی پٹائی شروع کر دی
۔ یہ خبر بھی پڑھیں: ساتویں جماعت کی طالبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔
مقتول لڑکے نے مار پیٹ کے دوران کئی بار اپنی سوتیلی ماں سے کہا کہ وہ بے ہوش ہو رہا ہے لیکن خاتون اس کی بات کو بہانہ سمجھ کر اسے اور زیادہ مارتی رہی۔ ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ لڑکے کا سگا والد اور اس کے دیگر بہن بھائی ںھی وقوعہ کے وقت گھر پر۔موجود تھے تاہم انھوں نے مداخلت کرنا ٹھیک نہیں سمجھا ۔
ادھر ڈینایا غیض و غضب کی آگ میں جل کر لڑکے کو وحشیانہ طریقے سے مارتی رہی۔ ملزمہ نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ متواتر تین گھنٹے کی مار پیٹ کے بعد اسے لگا کہ لڑکا بے جان ہو چکا تھا ۔ اس نے لڑکے کی سانس کا معائنہ کیا تو وہ نہیں چل رہی تھی۔ جس کے بعد اس نے ایمرجنسی سروس نائن الیون پر کال کی۔ جس کے بعد لڑکے کی موت کا انکشاف ہو گیا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتول لڑکے کے جسم پر کل 1172 کٹ پر چکے تھے جبکہ اس کے اندرونی اعضاء بھی بری طرح گھائل ہو چکے تھے۔ قتل کی اس بھیانک واردات پر پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کرکےتھرڈ ڈگری مرڈر چارج کیا ہے اور اس کی ضمانت کے لئے 30 لاکھ امریکی ڈالر جرمانہ مقرر کیا ہے ۔

