گوجرانوالہ / مانیٹرنگ ڈیسک: پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے بھارتی نوجوان بادل بابو کے موبائل فون سے 300 سے زائد ٹیکسٹ اور ویڈیو پیغامات برآمد ہوئے ہیں، جو اس نے پاکستانی لڑکی ثنا رانی کے ساتھ شیئر کیے تھے۔ بادل بابو کو آج (7 فروری) کو دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ منڈی بہاؤالدین عثمان سرور کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: پاکستانی طیارے نے اچانک بھارت میں لینڈنگ کرکے کھلبلی مچادی
بادل بابو کے وکیل فیاض رامے نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ بادل بابو کو والدین سے ویڈیو کال پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اور لیگل
انٹرویو کی منظوری دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بادل بابو کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہ کسی ادارے کا ایجنٹ ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ بادل بابو کو محبت میں دھوکہ دے کر پاکستان بلایا گیا، جس کے خلاف ثنا رانی کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
اسلام آباد میں عثمان نامی شخص کے پاس بادل بابو قیام پذیر تھا، اور اس کے موبائل سے بھی ثنا رانی اور بادل بابو کے درمیان 300 سے زائد پیغامات ملے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ بادل بابو ثنا رانی کی دعوت پر پاکستان آیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وکیل فیاض رامے نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
یاد رہے کہ بادل بابو، بھارتی ریاست علی گڑھ کا رہائشی، یکم جنوری 2025 کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے پر منڈی بہاؤالدین سے گرفتار ہوا تھا۔ اس پر غیر قانونی داخلے اور سفری دستاویزات کی عدم موجودگی کے تحت دفعات 13 اور 14 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران بادل بابو کی ضمانت کی درخواست پر بھی غور کیا جائے گا اور تحقیقات جاری ہیں۔

.webp)