بالی وڈ فلم دنگل کی اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ نے ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔حالیہ انٹرویو میں فاطمہ ثنا نے اپنے کریئر کے آغاز میں ساؤتھ انڈسٹری میں پیش آنے والے واقعات کا انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں وہ سمجھتی تھیں کہ اگر ساؤتھ انڈسٹری میں کام مل جائے اور کامیاب ہو جائیں تو بالی وڈ کے دروازے کھل جائیں گے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: گرفتار یوٹیوبر سے تین سو خواتین کی خفیہ ویڈیوز برآمد
فاطمہ نے بتایا کہ انہیں ایک کاسٹنگ ایجنٹ نے فون کرکے فلم کی پیشکش کی، لیکن دورانِ گفتگو وہ مسلسل نازیبا جملے بولتا رہا، جنہیں انہوں نے نظرانداز کیا۔ بعد میں ایجنٹ نے میسج کیا کہ "آپ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں نا؟" فاطمہ نے جواب دیا کہ وہ اپنے کردار کے لیے پوری محنت کریں گی، لیکن وہ شخص بار بار ذومعنی سوالات کرتا رہا۔ اداکارہ نے جان بوجھ کر اس کا سوال نہ سمجھنے کی اداکاری کی تاکہ وہ کھل کر بات کرے، اور بالآخر اس نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے۔
فاطمہ ثنا نے مزید بتایا کہ ایک اور واقعہ حیدرآباد میں پیش آیا جہاں ایک پروڈیوسر ہر بار ملاقات پر اشاروں میں بات کرتا کہ "یہاں پر کام کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے"، لیکن کھل کر نہیں بولتا تھا۔ تاہم اداکارہ نے واضح کیا کہ ہر کوئی ایسا نہیں ہوتا، لیکن انڈسٹری میں استحصال ایک تلخ حقیقت ہے، جو نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فاطمہ ثنا شیخ دنگل کے بعد عامر خان کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہی تھیں۔ عامر خان اور کرن راؤ کی علیحدگی کے بعد انہیں اس کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے فاطمہ نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ لوگ غلط سوچیں، لیکن اب ایسی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ لیا ہے، اگرچہ بعض اوقات یہ الزامات انہیں افسردہ کر دیتے ہیں۔

.jpg)