کوچ کو خاتون فٹ بالر کے ہونٹوں کا بوسہ لینے کے 31 لاکھ روپے دینے پڑھ گئے

0

میڈرڈ / مانیٹرنگ ڈیسک: اسپین کی ہائی کورٹ نے سابق فٹبال فیڈریشن سربراہ لوئس روبیلیز کو خاتون فٹبالر جینی ہرموسو کو بغیر رضامندی چومنے کے الزام میں جنسی زیادتی کا مجرم قرار دے دیا۔ عدالت نے روبیلیز پر 10,800 یورو (تقریباً 31.5 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کیا، تاہم انہیں جبر کے الزام سے بری کر دیا گیا۔


روبیلیز نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ استغاثہ نے ان کے لیے قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ 2023 کے ورلڈ کپ میں اسپین کی جیت کے بعد روبیلیز نے جینی ہرموسو کے ہونٹوں پر بوسہ دیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ خاتون کھلاڑی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اس واقعے کے بعد بے عزتی محسوس کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وہ شدید دباؤ میں تھیں۔


یہ خبر بھی پڑھیں: مداح کی بھارتی اداکارہ کا زبردستی بوسہ لینے کی کوشش

یہ معاملہ اسپین میں ایک بڑی بحث کا سبب بنا اور 'می ٹو' تحریک کو مزید تقویت ملی۔ عدالت نے روبیلیز کے تین ساتھیوں کو بری کر دیا، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ہرموسو پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ اس بوسے کو اتفاقی قرار دیں۔

روبیلیز نے مقدمے کے دوران موقف اختیار کیا کہ جینی ہرموسو نے بوسہ دینے کی اجازت دی تھی، مگر خاتون کھلاڑی نے حلفیہ بیان میں اس کی تردید کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ عمل قابل مذمت تھا، تاہم چونکہ اس میں کوئی تشدد یا دھمکی شامل نہیں تھی، اس لیے اسے کم شدت کا واقعہ سمجھا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  مداح خاتون ٹینس سٹار کا کئی ملکوں میں پیچھا کرتا رہا، ہراساں بھی کیا

عدالتی حکم کے مطابق روبیلیز کو ہرموسو سے 200 میٹر دور رہنے اور ایک سال تک ان سے کوئی رابطہ نہ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ انہیں 3,000 یورو (تقریباً 9 لاکھ پاکستانی روپے) بطور معاوضہ بھی ادا کرنے ہوں گے۔ جرمانہ 18 ماہ میں ادا کیا جائے گا۔ اسپین کی خواتین ٹیم کی کپتان نے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا کہ روبیلیز کو جبر کے الزامات سے بری کیوں کیا گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !